Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

Thursday, December 25, 2025

Taleem O Tarbiat - April 1980

Taleem O Tarbiat


تعلیم و تربیت - 1989


تعلیم و تربیت بچوں کے لیے ایک شاندار اور یادگار شمارہ ہے، جو اپنے وقت کی خوبصورت یادوں اور ادبی چاشنی کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ ماہنامہ، جو کئی دہائیوں سے بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کا فریضہ انجام دے رہا ہے، اس مہینے بھی اپنی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس میں نہ صرف دل چسپ کہانیاں، نظمیں اور کارٹون شامل ہیں، بلکہ یہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

اس میگزین کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا نہیں، بلکہ بچوں کو پڑھائی کی جانب راغب کرنا، انہیں اخلاقی اقدار سکھانا اور ان کی سوچ کو وسعت دینا بھی ہے۔ اس شمارے میں بھی آپ کو ایسی تحریریں ملیں گی جو بچوں کے دلوں میں تجسس پیدا کریں اور انہیں سیکھنے پر مائل کریں۔   یہ شمارہ ایک قیمتی ورثہ ہے جو قارئین کو اس دور کی یادوں میں لے  جاتا ہے۔

Saturday, June 22, 2024

قافلۂ حجاز - نسیم حجازی

 

قافلۂ حجاز


نسیم حجازی اردو کے مشہور ناول نگار تھے جو تاریخی ناول نگاری کی صف میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام شریف حسین تھا لیکن وہ زیادہ تر اپنے قلمی نامنسیم حجازیسے معروف ہیں۔قافلۂ حجازان کا تحریر کردہ ناول ہے۔

Saturday, June 15, 2024

قائد ملت اسلاميہ - علامہ عبد الرشید ہمایوں


 علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمۃ کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ حافظ قرآن اور شیخ الحدیث بھی تھے۔ وہ 22 جون 1966 کو اٹک کے علاقے نکہ توت میں پیدا ہوئے تھے۔علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمۃ نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کی حمایت کی اور انہیں پھانسی دیے جانے کے بعد اسلام آباد میں احتجاج بھی کیا تھا جس کے بعد وہ خبروں میں آنا شروع ہوئے۔
 

Thursday, June 13, 2024

اوپر نیچے اور درمیان - سعادت حسن منٹو

اوپر  نیچے اور درمیان

 سعادت حسن منٹو پر متحدہ ہندوستان اور پاکستان میں فحاشی کے الزام میں کل ملا کر چھ مقدمے چلے۔ پانچ میں وہ باعزت بری ہوئے۔اوپر  نیچے اور درمیاننامی افسانے پر مقدمے میں انہیں کراچی کی عدالت سے سزا ہوئی۔ منٹو اس لغویت سے اس قدر تنگ آ چکے تھے کہ انہوں نے اپنا دفاع کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ عدالت میں پہنچے اور سیدھا پوچھ لیا کہ کتنا جرمانہ ادا کرنا ہے۔ جرمانہ ادا کیا اور باہر آ گئے۔ دراصل منٹو ایک 
نشبتاً کھلے ثقافتی ماحول کا عادی تھا۔ اس نے اپنے ایک سے زیادہ افسانوں میں گاندھی جی کا بھی پھلکا اڑایا تھا۔ 
اسے پاکستان میں فنی آزادی کی حدود اور چوہدری محمد حسین نامی پنجاب پریس برانچ کے اہل کار کے دائرہ اختیار کا اندازہ نہیں ہو سکا۔اوپر نیچے اور درمیاندراصل ایک بڑے پاکستانی منصب دار اور ان کی نجیب الطرفین اہلیہ کے باہمی دلچسپی  کے امور کا حقیقی بیان تھا۔ منٹو کو یہ واردات کہیں سے ہاتھ آ گئی۔ افسانہ لکھ دیا۔ مجروح فریق نے راز ہائے درون خواب گاہ کے انکشاف پر مقدمہ دائر کر دیا۔  منٹو غریب کو کیا معلوم تھا کہ پاکستان مین خضر صورت عمائدین اور آپا جان کے اشغال خفیفہ حساس امور میں آتے ہیں اور بارسوخ خواتین و حضرات بوجوہ زود حس بھی ہوتے ہیں۔